تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال

ایک نئی رپورٹ جو پاکستانی سینیٹ میں جمع کی گئی تھی اس کے مطابق پاکستانی تعلیمی اداریں منشیات کا اڈا بنتے جارہے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے پوش علاقوں میں موجود اسکول اور کالجز جہاں اس کام میں کینٹین اور استادزہ تک ملوث پائے گئے ہیں۔

مگر اب صوبائی حکومتوں نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا آغاز کردیا ہے۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے اب طلباء کے خون کے نمونے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ہر سال کیا جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں یہ کام حکومت جبکہ پرائیوٹ اداروں میں ان کے مالکان یہ ٹیسٹ کروانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں