بچوں کے اسلامی نام رکھنے میں شرم کیسی؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچے اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے جس کی خواہش والدین کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔اسی لئے بچوں سے جڑی چھوٹی چھوٹی چیزوں  میں بھی والدین سمیت خاندان بھر کے لوگ بڑی گرمجوشی سے تحقیق کرتے ہیں ۔ چاہئے بات ان کی صحت کی ہو یا پھر تعلیم وتربیت کی لیکن کیا وجہ ہے کہ کچھ عرصے سےہمارے معاشرے کی اچھی خاصی تعدادبچوں کے نام رکھنے میں عجیب مخمصے  کا شکار ہیں۔  کوئی چاہتا ہے کہ اس کے بچے کا نام ایسا ہو جو سب سے منفرد ہو تو کوئی معنی جانے بغیر ہی نام رکھ دیتے ہیں اور بعد میں معنی پتہ لگنے میں نام تبدیل۔

بچوں کے نام رکھنے میں جو عجیب بات میرے سامنے آئی وہ تھی ان کے نت نئے نام رکھنے کے شوق میں اسلامی ناموں سے دوری۔  کچھ دنوں پہلے ایک جاننے والے صاحب کے پیدائش ہوئی تو ان صاحب نے اپنی پیاری سی بچی کا تھوڑا عجیب سا نام رکھ دیا، جب مطلب پوچھا تو بولے کہ “پتہ نہیں، آج کل وہ ایک مشہور ڈرامہ آرہا ہے نا، اس میں ایک اداکارہ کا یہی نام ہے۔ ایسا ہی حال کچھ اور جگہ دیکھنے کو ملا جہاں پاکستانی اور غیر ملکی ڈراموں کا اتنا اثر دیکھنے کو ملا کہ بچے کام نام ہی کسی  اداکار کے فرضی نام پر رکھ دیا گیا۔

صرف یہی  نہیں بلکہ کچھ افراد قصے کہانیوں اور ناولوں سے سبق لینے کے بجائے ان سے نام نکالنے بیٹھ گئے ہیں اور جب ان سے نام کے معنی پوچھے جائیں تو اول توانہیں مطلب معلوم ہی نہیں ہوتا اور کسی کو معلوم بھی ہوتا ہے تو  وہ  مطلب سن کر بندہ پریشان ہوجائے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ کئی اسلامی ناموں کو معاذاللہ پرانے زمانے کے نام کہہ ڈالتے ہیں جبکہ اسلامی نام رکھنا تو باعث ثواب کام بھی ہے۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائےتو اسلام نے ہمیں بچوں کے اچھے اسلامی نام رکھنے کی تلقین کی ہے ۔

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن تم اپنے اوراپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤگے لہٰذا اچھے نام رکھاکرو۔ رواہ احمد، ابوداوٴد، مشکوٰة:۴۰۸

اسی طرح ایک اور حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی سب سے پہلے تحفہ اپنے بچہ کو نام کا دیتا ہے اس لئے چاہئے کہ اس کا نام اچھا رکھے۔ رواہ ابو الشیخ

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اب تو اسلامی ناموں میں بھی فرقہ واریت کا عنصر سامنے آنے لگا ہے۔ پچھلی دو تین دہائیوں سے جہاں ملک پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ نے نفرت پھیلائی  اسی طرح یہ تعصب کا اثر اب لوگوں کے ناموں میں بھی نظر آنے لگ گیا۔ یہ بات لگتی عجیب ہے لیکن اب تو کئی لوگ نام سن کر ہی دوسرے کے فرقے کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔  یعنی کہ کچھ اسلامی نام ایک فرقے کے کھاتے میں تو کچھ نام کسی دوسرے فرقے کے لئے  “حلال”۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں بچوں نام سے کتابچے بہت عام تھے اور لوگ ان کتابچوں کو پڑھنےاور اپنے بزرگوں کی رائے  کے بعد ہی نام رکھتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی اور ہمارا مشترکہ خاندانی نظام زوال پذيری کی طرف گامزن ہوا ، ویسے ویسے ہمارے اسلامی نام رکھنے کےلئے تحقیق  کا عمل بھی کم ہوتا گیا۔اور اس سب کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم نام رکھنے لئےڈراموں،انٹرنیٹ اورفرقہ واریت کو اپنا معیار بنا بیٹھے ہیں۔ افسوس

پول

کیا آپ کے خیال پاکستان میں اسلامی نام رکھنے کے رجحان میں کمی ہوئی ہے؟

View Results

Loading ... Loading ...

نعمان یونس بلاگر  اور سوشل میڈیا  ایکٹیوسٹ ہیں اور کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز کرچکے ہیں۔ آپ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ @Noumaan22

اپنا تبصرہ بھیجیں