کشش جنس مخالف اور نُوع بشر

ویسے تو اوسطاً  عمر تقریباً ١٨ برس ہوتی جب انسان میں فطری طور پر جنس مخالف کی جانب کشش پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کو اپنی عمر کے متعلق صحیح اندازہ نہیں ہوتا کہ کب اس میں یہ کشش پیدا ہوگئی ہے۔ ایک صحت مند اور تندرست و توانا انسان جو برق رفتاری کے ساتھ  لڑکپن اور جوانی کی سمت جا رہا ہوتا تھا۔ اس سمت میں جانے کے بعد آپکو یہ علم نہیں  ہوتا کہ آپکے لہو کے قطرے قطرے میں ایک طرح کی سنسناہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔

جسم میں کئی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور آپ ایک عجیب قسم کا تناؤ محسوس کرتے ہیں۔آپ ان تمام تبدیلیوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ پتلی گردن جس میں گوشت کی کمی ہوتی ہے وہ موٹی ہوجاتی ہے۔ بانہوں کے پٹھوں میں ایک طرح کا کھیچاٶ ، اکڑ پن محسوس ہوتا ہے۔ گردن سینے میں گوشت کی تہہ آہستہ آہستہ جمتی ہے اور پستانوں میں ابھار پیدا ہوتا ہے۔ پیروں سے یہ لرزش  پنڈلیوں، رانوں اور اعضائے  تناسل سے ہوتی ہوئی دل میں پہنچ جاتی ہے۔ انسان درد پیدا کرنے والے ایک کھیل میں اس قدر مشغول ہوجاتا ہے،جس بنا پر اسکے منہ لعاب نکل آتا ہے، جس سے اسکا چہرہ کان کی لوٶں تک ذرد سے سرخ ہوجاتا۔

جنس مخالف کی طرف جھکاؤ کو عام طور پر ہمارے معاشرے میں ٹھرک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہےجو کم و بیش ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ ہر انسان کے اندر یہ بیماری موجود ہوتی ہے،اس کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا، یہ کیفیت کسی بھی وقت کسی پر بھی طاری ہوسکتی ہے۔ لیکن فیسبک، ٹوئٹر اور سماجی روابط کی ویپ سائٹس پر ٹھرک پن کا مظاہرہ کھل کرکیا جاتا ہے۔

بشمول میں اور میرے احباب میں سے کوئی بھی محنت اور مطالعے کے بعد اپنا علمی پوسٹ یا بُلاگ شیئر کرتا ہے، تو کم از کم لائکس کی تعداد بیس سے تجاوز نہیں کرتی اور ایسے پوسٹس پر عوامی راۓ کم ہی ملتی ہے۔ جب کہ کسی لڑکی کے تھکے ہوئے شعر یا آدھی ادھوری  شاعری پر واہ واہ ہوتی ہے۔ چند گھنٹوں میں لائیکس سینکڑوں سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اگر وہ ”اوئی” یا ”طبیعت  خراب ہونے“ کا  بھی لکھ دے تو ”کیا ہوا، کیسی ہو” کے کمنٹس شروع ہوجاتے ہیں فوراً نسخے اور ٹوٹکے جوق در جوق کمنٹس میں آجاتے ہیں۔ اگر کوئی لڑکی کسی کی پوسٹ پر تعریف میں  کمنٹ کردے تو یہ طبقہ شکریہ ادا کرنے انکے ان باکس میں پہنچ جاتا ہے اور اپنے ٹھرک کا مظاہرہ  کرتا ہے۔

میرا ایسا ماننا ہے کہ فیس بک پر اکثریت  ایسے لوگوں کی پائی جاتی ہے،اگر آپ  انکی وال پر جاکر ملاحظہ کریں تو آپکو اکثر جعلی احادیث کے پوسٹر، اور سبزیوں، پھلوں پر اسماء اللہ لکھی تصاویر ملیں گی، جنکے نیچے لکھا ہوتا ہے ”سبحان اللہ کہ کر آگے شئیر کردیں، شیطان آپکو روکے گا” یا  تو ‏زنانہ فلٹر لگا کے پھیکے رنگوں والی تصاویریں ملتی ہیں۔ آپ انکے ”about” چیک کریں تو آپ سمجھیں گے یہ تو کوئی نامی گرامی چیمپئن ہے لیکن حقیقت سے اس کا دور  دور تک کوئی تعلق نہیں  ہوتا ان وال پر زیادہ تر مجروں، اداکاراؤں، فحش پیجز کے لائکس ملتے ہیں۔

اکثر ان میں سے تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جن کے جیب میں محبوبہ کو پیپسی،انڈے والا برگر اور گول گپے کھلانے کے پیسے بھی نہیں  ہوتے، اگر یہ افراد کسی نازک و حساس دوشیزاٶں کو بار بار دیکھ کر آہیں بھرتیں ہیں۔ اکثر لکیر کے فقیر ہوتے ہیں، اگر کسی کا کمنٹ پسند آجائے یا کوئی پوسٹ تو اسی کو کاپی پیسٹ شروع کردیتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ محلے کی خوبصورت لڑکی کو دیکھ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں، اس سے ذیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ ایسے افراد اپنی تشنہ خواہشات کی تکمیل سماجی روابط کی ویب سائٹس پر کررہے ہوتے ہیں۔ بس میں تو یہی کہتا ہوں خوبصورتی کی تاب پھر بھی لائی جا سکتی ہے مگر ٹھرک کی گرمی کی تاب لانا نا ممکن ہے۔

آخر میں اپنے ان  دوستوں سے یہی کہوں گا کہ آپکے علمی  پوسٹ پر بیس لائک بھی ان نٹھلے اور نِکمے افراد کے دو سو لائکس سےلاکھ گناہ بہتر ہیں۔ اگر اسے چند  افراد نے بھی سمجھ لیا ہے، اور اپنی رائے دی ہے، جس سے آپکو اپنی اور انکی اصلاح کرنے اور علم کا اشتراک کرنے کا اضافی موقع ملے گا۔

تحریر : خطیب  احمد

کشش جنس مخالف اور نُوع بشر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں