پاکستان ریلوے کی آئے روز الٹتی مال گاڑیاں مسافروں کے لئے دردِ سر

پاکستان میں ٹرین سفر کے لئے سب سے زیادہ استعمال ہونے والاذریعہ ہے جس میں روزانہ لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں۔ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ  موجودہ حکومت  کو  ریلوے بہت خستہ حالت میں ملی اور لوگوں نے ریلوے کے سفر سے اجتناب کرنا شروع کردیا تھا۔ دوسری جانب جہاں  تمام مال گاڑیاں تقریبا بند ہوچکی تھیں وہیں  مسافر ٹرینیں بھی ڈیزل کی کمی، خراب انجن اور دیگر کئی مسائل سے نمبردآزما تھیں جن سے نمٹنے کے لئے موجودہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر بہت سے احسن اقدامات کئے۔ اسی وجہ سے موجودہ وزیر ریلوے سعد رفیق  اور ان کی انتظامیہ عوام میں ریلوے کا اعتماد بحال کرنے پر تعریف کے مستحق ہیں۔ ان مثبت اقدامات کے باعث ہی عوام نے پھر سے ریلوے میں  سفر کرنے کو فوقیت دی لیکن حالیہ کچھ ماہ سے مال گاڑیوں کے الٹنے کے واقعات نے عوام کو پھر سے دوسرے سفرکے ذرائع کی جانب دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔

گذشتہ تین  ماہ کے قلیل عرصے میں 8دفعہ مال گاڑیاں الٹنے ،اور انجن خراب ہونے کے واقعات پیش آئے ۔   جبکہ گذشتہ نومبر سے اب تک  کم از کم 13مرتبہ مال گاڑیوں کے حادثات میڈیا میں رپورٹ ہوئے ۔ یاد رہے کہ یہ حادثات صرف مال گاڑیوں کے ہیں ، ان میں مسافر گاڑیوں کے حادثات شامل نہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مال گاڑیوں کے الٹنے کی وجہ ہونے والا نقصان ایک طرف لیکن دوسری جانب مسافر گاڑیو ں کی آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی  جس کے وجہ سے مسافروں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت اپنے آخری دن گن رہی ہے لیکن جاتے جاتےوزیر ریلوے سعد رفیق کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اہم فیصلہ کریں تاکہ عوام کا ریلوے پر اعتماد مکمل طور پر بحال ہوسکے۔

پٹری سے اترنے کے واقعات:

6اپریل2018:

28مارچ:

12مارچ:

یکم مارچ:

8فروری :

8فروری:

5 فروری:

11 دسمبر:

7 دسمبر حادثہ:

16 نومبر آگ:

2 نومبر:

3 فروری: انجن خراب

اپنا تبصرہ بھیجیں