جدید دور کے تعلیمی مسئلے

آج کے جدیددور میں طرز ز ندگی تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبےپر اثر  پڑا ہے ، زندگی کے چھوٹے موٹے معاملات کو سامنے رکھیں یا  کسی بڑے معاملے کو،  ہر ایک میں تبدیلی متواتر   ہو رہی ہے۔جدید دور کی جدید تعلیم بھی ایک مسئلہ بن کر ابھری  ہے۔ اب تعلیم حاصل کرنا  غریب کے لیے ناممکن سا ہو گیا ہے، ایک تو  غریب کا بچہ بڑی مشکل سے  بنیادی تعلیم حاصل کرتے ہوئے جب میٹرک تک پہنچتا ہے تو   اسے یہ سمجھ نہیں آتا کہ کس شعبے میں آگے جانا چایئے، کسی نا کسی طرح اگر  دسویں جما عت پاس ہو جائے تو پھرایک نیا مسئلہ سامنے آتا ہےکہ اب  آگے کس شعبے  کو رکھا جائے جو اچھے ذریعہ معاش  میں کارآمد بنے ،  کیونکہ جدید دور جو ہے اور جدید تقاضے ساتھ ساتھ ! اسی کشمکش میں جس نے جو بتایا  اسی پر عمل کر لیا(سو منہ سو مشورے) حالانکہ ایسا کرنا بالکل غلط ہے ۔

انسان کو ایسی فیلڈ میں جانا چا یئےجس کے مطابق دماغ  چلے یا ایسے مضمون کا انتخاب کرے جس میں دل چسپی ہو مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا اسکی ایک وجہ تو طالبعلم   کوزیادہ تجربہ نہیں ہوتا تعلیمی  میدان کا  ،اور رہی سہی کسر معاشرے کے نا تجربہ کار لوگ پوری کر دیتے ہیں ۔ مشورہ  دیں گے  بھی تو دنیا کی چکاچوند کو سامنے رکھ کر پر لازمی نہیں کہ اگر ایک شخص کسی فیلڈ میں کامیاب ہوا تو دوسرا بھی کامیاب ہو۔

تو بات دراصل ہو رہی تھی انٹر میڈییٹ کے داخلے کی تو یہ کسی بھی اسٹوڈنٹ  کی زندگی کا  اہم ترین مرحلہ ہوتا ہےپرلولی لنگڑی رائے  اسٹوڈنٹ کی  زندگی کافی حد تک خراب کر دیتی ہے باقی  کسر نظام تعلیم پوری کرتا ہے  اوراسی وجہ سے  میٹرک کے مقابلے میں انٹر میڈیٹ میں طلبہ کی تعدا دتو کم آتی ہے پر انٹر میڈ؎یٹ کے بعد مزید کم ہو جاتی ہے۔


جس طرح  چائے کے چھنےسےپتی کے کچھ دانے بچ کرچائے کے ساتھ کپ میں آگرتے ہیں اسی طرح تعلیمی  نظام اور جدید دور  کی مار سےجب غریب گھرانے کا اسٹوڈنٹ  کسی ناکسی طرح بچ کر کسی بھی جامعہ میں داخلہ لینے جاتا ہے تو وہاں  جا کر نئی دنیا سے متعارف ہونا پڑتا ہے۔


داخلہ پالیسی اور ساتھ ساتھ فیسوں کی بھرمار  اسٹوڈنٹ  کے لیے ایک بار پھرآزمائش  کی گھڑی ہوتی ہےکہ کس مضمون کا انتخاب کریں اور ساتھ ساتھ اپنی فیس کے بجٹ کابھی خیال رکھا جائے۔ اگر دیکھاجائے کہ  ایک  اسٹوڈنٹ  اتنی مشقت کے بعد   یہاں تک پہنچتا ہے تو ضرور تعلیم سے مخلص ہوگا ،پر ساری محنت اکثر ضائع جاتی ہے۔

دور ِحاضرکو مدنظر میں رکھتے ہوئے ملک کی ترقی کے لیے افرادی قوت کا  تعلیم یافتہ ہوناضروی ہے۔ ملکی ترقی کی بنیاد نو جوان ہیں مگر جن مسائل کا شکار نوجوان ہیں اس کا ادراک ہونا لازمی ہے اور اس سب کے لیئےبنیادی سطح پر کام کرنا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسل کو فائد ہو اور اسی طرح جو ابھی نوجوان مشکلات کا شکارہیں انکی رہنمائی کی جائے اور ساتھ ساتھ مالی مدد کی جائے تاکہ  غریب کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔

عدنان حنیف  جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹرکرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ  معاشرتی مسائل کو اجاگرکرنے میں کوشاں ہیں۔ آپ ان سے ٹوئیٹر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ @AdnanHaniff

اپنا تبصرہ بھیجیں