کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹرانسپورٹ

کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹرانسپوٹ کا    مسئلہ عروج پر ہے،  اس بات کا اندازہ  یوں لگایا جاسکتا ہےکہ سڑکوں پر  بے تحاشا    ہجوم ہوتا ہے  خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات، جب عوام گھر سے آفس اور آفس سے گھروں کو جا رہے ہوتے ہیں۔

بعض اوقات آفس جانے کے لیے آدھے گھنٹے سے زیادہ ا  انتظار کرنا پڑتا ہے اور اکثر  یہی وجہ آفس میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔اگر کسی نا کسی طرح بندہ آفس پہنچ بھی جائے تو واپس گھر آنے کا سوچ کرہی  پریشانی کے بادل سر پر مندلانے لگتے ہیں !ہوتا کچھ یوں   ہے کہ بندا جب آفس سے گھر کے لیئے  نکلتا ہے تو سب سے پہلے اپنے ساتھ تھکن ،گھر کا سودا سلف اور اگلے دن کے  بہت سارے پلان اور سب سے بڑھ کر پریشانیوں کا پہاڑ لیے  گھر کی طرف راوں داوں ہوتا ہے تو   سامنے غریب کے لیے دیوارِچین واضع کھڑی  ہوتی ہے  ،یعنی  روڈ پر مناسب پبلک  ٹرانسپورٹ  کا نا ہونا جلتے پے نمک کا کام کرتے ہیں۔

اللہ گواہ ہے اگر  بیس یا تیس منٹ کے صبر کے بعد  اگر بس نا سہی چنگچی رکشہ مل بھی جائےتو اُس میں بھی بڑی مشکل سے  رکشے کی  سیٹ پر قبضہ کرنا پڑتا ہے ۔خود کو بڑی مشکل سے ہلا جلا کر  اوراپنی  سانس روک کر جسم کا ہجم کم کر کےبیٹھنا پڑتا ہےاورجس پوزیشن میں بیٹھنا نصیب ہو  وہی پوزیشن گھر تک برقرار رکھنی پڑتی ہے۔


کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبے کا اعلان ہوا تھا جس کےایک گرین لائن منصوبے پر کام تو جاری ہے پر سست روی کا شکار ہے باقی اورنج لائن پر بھی کام جاری ہے پر کام میں سستی اتنی ہے کے وہاں کام کے جاری ہونے کا احساس تک نہیں ہوتا۔


اسی طرح دیکھا جائے تو کراچی شہر میں اسی سے منسلک اور بھی منصوبے بھی ہیں ؛ یلو لائن  ،پرپل لائن جن پر ابھی تک کام شروع ہی نہیں ہوا،گرین لائن پر تقریبا ایک سال سے کام جاری ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوا تو جب باقی ماندا منصوبوں پر جب کام جاری ہوگا تو  یہ سب کتنا وقت لیں گے۔

منصوبوں میں تاخیر کی وجہ سےسڑکوں پر  موٹر سائیکل اوراس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی بہتات ہو گئی ہے جس کی وجہ سےسڑکیں تنگ پڑگئی ہیں، اس سے یہ بات واضع ہے کے ہر ایک شہری  کی ذاتی سواری ہی کیوں نا ہو  ، یہ اس مسئلہ کاحل نہیں۔

بنیادی سہولیات کا  فقدان شہریوں کے لیے نفسیاتی مسئلہ بن گیا ہےاور حکومت کی نا اہلی کا واضع ثبوت ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیےکے  پنجاب اور  خیبرپختونخواہ کی حکومت کو دیکھتے ہوئےکام  کرے تاکہ عوام کوجلد از جلد  فائدہ ہو۔

عدنان حنیف  جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹرکرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ  معاشرتی مسائل کو اجاگرکرنے میں کوشاں ہیں۔ آپ ان سے ٹوئیٹر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ @AdnanHaniff

کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹرانسپورٹ” ایک تبصرہ

  1. میرا تو خیال یہ ہے کے عوام اتنی نہیں ہے ہماری ٹرانسپورٹ بہت کم ہو چوکی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں