کراچی کی اے ٹی ایم مشینوں سے جعلی نوٹ نکلنے لگے

کچھ سالوں سے پاکستان میں نقلی نوٹوں کی مارکیٹ کافی حرکت میں نظر آرہی ہے اور یہ نقلی نوٹ عام مارکیٹوں میں بھی کبھی کبھار نظر آتے ہیں۔ جہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نقلی نوٹوں کو پہچاننے کے لئے رہنما اصول متعارف کئے وہیں پاکستان کے مختلف بینکوں سے جعلی نوٹ نکلنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ایسا ہی واقعہ کچھ عرصہ قبل ہمارے ساتھ کراچی میں واقع یو نائیٹڈ بینک لمیٹڈ  میں ہوا۔

ہوا کچھ یوں کہ ہم نے ایک ادارے کو ادائیگی کرنی تھی،جس کے لئے ہم نے وہاں موجود اے ٹی ایم سے پیسے نکال کے بینک کاؤنٹر پر جمع کروائے لیکن یہ کیا، کاؤنٹر پر موجود خاتون نے نوٹ کو جعلی کہہ ڈالا ۔

ہم نے جب ان کو بتایا کہ یہ سب نوٹ آپ ہی کے اے ٹی ایم سے نکالے گئے ہیں تو انہوں نے پہلےتو ثبوت کے لئے اے ٹی ایم کی رسید مانگی (جو شکر ہے ہمارے پاس تھی) اور جب انہیں رسید دیکھا دی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم کیسے مان لیں کہ یہ نوٹ آپ اے ٹی ایم سے لائے ہیں؟ اور یہ کہ ہماری اے ٹی ایم مشین میں نقلی نوٹ ڈالا جائے تو وہ اسے پکڑ لے گی۔

ہم نے کہا کہ یا تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ لیں یا پھر آپ نقلی نوٹ اے ٹی ایم مشین میں ڈال دیں، اگر وہ پکڑ لے گی تو ہم آپ کی بات مان لیں گے ورنہ تو یہ ہزار روپے کا نقصان ہم پر آجائے گا لیکن لگتا ہے بینک انتظامیہ کسٹمر سپورٹ کی تعریف تک سے ناواقف ہیں، اسی لئے بجائے وہ ہمارے سادہ سے سوالات کے مناسب جوابات کے بجائے بدتمیزی پر اتر آئے ۔

آخر کار ہم نے ان سے کہا کہ ہم اے ٹی ایم سے نقلی نوٹ نکلے کی شکایت درج کروانا چاہتے ہیں ، آپ ہمیں شکایت درج کروانے کا فارم دیں لیکن یہ کیا بینک انتظامہ (بینک منیجر اور باقی اسٹاف) تو اتنی حواس باختہ ہوگئی تھی کہ اس نے کہا کہ آپ ہماری ہیلپ لائن پر شکایت درج کروائیں ، یہاں شکایت درج نہیں ہوتی۔

کرنے کیا نہ کرتے، ایک عام پاکستانی شہری ہونے کے ناطے وہ نقلی نوٹ لے کر ہمیں باہر آنا پڑا ۔ اس کے بعد بینک کی ہیلپ لائن پر شکایت درج کروائی لیکن کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود کوئی حل نظر نہیں آیا۔

اس سلسلے میں بینک سے باہر کر ایک ویڈیوبھی بنائی جو پیش ہے۔

نعمان یونس بلاگر ہیں اور کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز کرچکے ہیں۔ آپ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں